آٹھویں خورشید امامت کےسائے میں آخری طواف؛مہربان ترین باپ کی آغوش میں علمدار کو الوداع کرنا

ان ایّام میں روضہ منورہ امام رضا(ع) اپنی آغوش کھولے ہوئے پہلے سے زیادہ بے قرار ہے تاکہ ایک امانت کو اپنی تحویل میں لے ، اس علمدار کے پاکیزہ جسد کی امانت جو برسوں شجاعت و اقتدار کے ساتھ میدان میں کھڑا رہا اور اب سلطان خراسان کے آستانے پر سرجھکا رہا ہے ،وہ جس نے ان تمام سالوں کے اتار چڑھاؤ میں معین الضعفاء امام (ع) سے والہانہ محبت و عقیدت رکھی اورہمیشہ سے اس ملکوتی بارگاہ کے جوار میں آرام کرے گا،اس علمدار کا آخری طواف مہربان امام(ع) کی ابدی ہمسایگی کا آغاز ہوگا۔

وداع کے ان ایّام میں حجت الاسلام سید محمد حسین راجی نے اپنی ایک تحریر میں اس عظیم رہبر کی روحانی سیرت اور زندگی کے چند دلچسپ پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا ،آپ قارئین کو عقیدت و بصیرت سے بھی اس تحریر کو پڑھنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔

الوداعی کے حسرت بھرے لمحات

ان دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران تلخ ترین ایّام سے گزر رہا ہے ایک ایسے عظیم علمدار کو الوداع کرنے کی تیاری میں مصروف ہے جو ساری عمر میدان میں ڈٹا رہا، وہ شخص جس نے اپنی سورج جیسی صلابت کے ساتھ، فتنوں کی تاریک راتوں میں راستہ دکھایا اور اس کی موجودگی کی داستان تاریخ کی رگوں میں دوڑتی رہی۔ چند دنوں میں، امت کے سوگوار ہاتھ اس شخص کے پیکر کی تشییع کریں گے جس نے اپنی امت کو عزت کی بلندیوں تک پہنچایا اور جس کا نام ہمیشہ ظالموں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا رہے گا۔

وہ شجاعت کا سرچشمہ تھا۔ پہلوی کے مارشل لا کے دوران، ٹینکوں اور آنسو گیس کے درمیان، اس نے اتنے سکون سے ظالم نظام کے خلاف تقریر کی کہ ہزاروں لوگوں کے دلوں سے خوف اٹھ گیا اور جبر کی دیواریں ٹوٹ گئیں۔ حسن‌آوا کی رائفل کندھے پر، تہران کے مصلّیٰ(نماز جمعہ کی جگہ) میں اس کے نماز جمعہ کے خطبات، راکٹ حملوں کے دنوں میں لرزتے دلوں کی پناہ گاہ تھی۔ یہ وہی شجاعت تھی جس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں تک جنگ کے سائے کو اس ملک کے سر پر نہیں پھٹکنے دیا۔

فتنوں کے طوفان میں وطن کے لئے پناہ گاہ

وہ ایک ناقابلِ تزلزل چٹان تھا۔ نہ ہی فتنوں میں ایک قدم پیچھے ہٹا اور نہ امریکی بحری جہازوں کی دھمکیوں کے سامنے ہچکچایا۔ اس نے پوری قاطعیت سے حکم دیا کہ وطن کی ایک بالشت زمین بھی دشمن کے ہاتھ نہیں لگنی چاہیے، اور وہ وطن کی سربلندی کے لئے ڈٹا رہا۔وہ وطن کےک لئے پناہ گاہ تھا اور اب اسی پناہ گاہ کے لئے وطن سوگوار ہے ۔

وہ توکل کا پہاڑ تھا۔ خطے میں استکبار کی طاقت نمائی ، پابندیوں اور دھمکیوں کی بپھری ہوئی لہروں کے درمیان دشمن کو حقیر اور زوال پذیر قرار دیا اور دنیا کے مظلوموں؛یمن سے فلسطین تک کو فتح کا یقین دلایا۔ وہ چلا گیا لیکن اپنا ایمان اور توکل اس قوم کے دلوں میں امانت چھوڑ گیا۔

وہ غیروں کے سامنے عزت کا مظہر تھا ، شاہ کی تاریک و تنہا کوٹھڑیوں میں تشدد سہہ کر مسکرانے والا اور کسی آمر کے خیمے کے سامنے سر نہ جھکانے والا تھا ، وہ جس نے یورپی سفیروں کی واپسی کے معاملے میں مغرور یورپی سفیروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔

دنیا کی آلودگیوں سے پاک حکمران کا سوگ

وہ شخصیت جس کی روح میں قناعت تھی جس نے شیعہ قوم کی رہبری کے تمام سالوں میں بیت المال سے ایک ریال بھی خرچ نہیں کیا اور اپنی زندگی کم سے کم وسائل کے ساتھ گزاری تاکہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کے برابر رہے ، ایران ایک ایسے حکمران کی تشییع و تدفین کی تیاری کر رہا ہے جو زہد و اقتدار کے امتزاج کا مظہر تھا۔

ایک سادہ زندگی گزارنے والا زاہد جو دوسرے ممالک کے حکمرانوں سے ملنے والے قیمتی تحائف بیچ کر غریبوں پر خرچ کرتا تھا اور خود انتہائی سادہ اور کم ترین چیزوں پر گزارہ کرتا تھا،دنیا ایک ایسے رہبر کو الوداع کر رہی ہے جو دنیا کا کوئی مال اپنے ساتھ نہیں لے گیا اور اس زمین پر اس کا حصہ فقط چند میٹر کی سادہ سی قبر ہے ۔

ایک باپ کا داغ جو دلوں پر باقی رہ گیا

ہمیشہ حلال لقمہ کھانے کا پابند تھا،ایک ہوائی سفر کے دوران ایک سے زیادہ مہمان نوازی کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کئے اور اپنے بچوں کو حکومتی سہولیات سے ذرہ برابر بھی استفادہ کرنے کی اجازت نہیں دی، اس نے عوامی اور ذاتی مال کے درمیان خط کو خون کی لکیر سے جدا کر دیا۔

وہ جو بیت المال کی حفاظت میں بہت سخت گیر تھا جس نے اپنے بیٹے کو بیت المال کےد سترخوان سے اٹھا دیا تاکہ تمام منتظمین کو سکھا سکے کہ عوامی دسترخوان سے ذاتی فائدے کے لئے ایک لقمہ بھی نہیں لینا چاہئے ۔

وہ جس نے 1964 کی سادہ سی شادی کی انگوٹھی کو آخری لمحے تک یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھا ،وہ جو بارہا اپنے رفقاء اور طلباء سے کہتے تھے کہ تائید و تعریف کے بجائے میرے ساتھ تنقید و مباحثہ کریں تاکہ آراء کے ٹکراؤ سے علمی کمال حاصل ہو۔

تواضع اور عاجزی کا پیکر

وہ انتقاد پذیری کا آئینہ تھے۔ ایک نوجوان لڑکی کے تنقیدی خط کے جواب میں، انہوں نے خطبات میں اپنی ممکنہ تلخ لہجے پر معذرت چاہی اور انتہائی عاجزی کے ساتھ، اس تنبیہ کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ دنیا میں کہاں آپ کو ایسا حکمران ملے گا جو ایک عام شہری کی تنقید کے سامنے اس قدر خاضع (عاجز) ہو؟ وہ تواضع کا مجسمہ اور اقتدار سے گریزاں تھے۔

وہ اخلاق کے بے مثال نمونے تھے۔ مخالفین کے احترام اور القابات کے ذکر پر تاکید کرتے تھے تاکہ غیبت میں کسی کی عزتِ نفس اور شأن کو نقصان نہ پہنچے۔ وہ عفو، درگزر اور اسلامی رأفت کی علامت تھے۔ ساواک کی جیل میں اپنے سخت ترین تشدد کرنے والوں کے لیے بھی دل میں کینہ نہیں رکھا اور انقلاب کے بعد اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی کہ ان کا حال پوچھیں اور زندگی کی مشکلات میں ان کی مدد کریں۔ وہ “أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ رُحَماءُ بَينَهُم” (کافروں پر سخت، آپس میں رحم کرنے والے) کی حقیقی تصویر تھے۔ وہ فکر و فن کے ماہر تھے۔ تیس ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل ایک عظیم لائبریری کے مالک، وہ کتاب شناسی، ناول، شعر اور تاریخ میں اتنی مہارت رکھتے تھے کہ پیشہ ور ناشرین، مصنفین اور شعراء بھی آرٹ اور ادب کے میدان میں ان کے دقیق علم اور تخصصی تنقید سے حیران رہ جاتے تھے۔

وہ خدا کے مخلص اور گمنام بندے تھے۔ بارہا میڈیا میں اپنی تصویر کی حد سے زیادہ نمائش پر گلہ کرتے تھے اور تیار نہیں تھے کہ ریڈیو کا عوامی پلیٹ فارم صرف اپنے درسِ خارجِ فقہ کے لیے مختص کریں، جب تک کہ حوزہ کے تمام اساتذہ کا حق برابر ادا نہ ہو۔ وہ شہرت سے بھاگتے تھے اور خدا نے انہیں دنیا کی نظروں میں عزیز کر دیا۔

امت کا اپنے مقتدر علمدار سے تلخ وداع

وہ جہاد کو روشن خیالی اور "جہاد تبیین”میں دیکھتے تھے۔ وہ اپنی پدرانہ راہنمائی اور رات کی التجاﺅں کے ذریعے نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے دلدل اور ہائبرڈ جنگ سے گزار کر اعتکاف، جہادی کیمپوں اور اربعین کے پاکیزہ سمندر تک پہنچانے میں کامیاب رہا۔ وہ نوجوان جو چند دنوں میں آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا تشییع جنازہ کریں گے۔

وہ علوی غیرت کا مالک تھا جو ناموس کی حفاظت میں تھا۔ اسی نے شدید ہجوم کے درمیان اپنے زخمی اور معذور ہاتھ سے ڈھال بنا کر ایرانی خواتین کے حجاب اور وقار کی عزت کو محفوظ رکھا اور کبھی اجازت نہیں دی کہ اس کے ماتحت نظام میں اس سرزمین کی ناموس کے خلاف معمولی سی بے‌حرمتی بھی ہو۔

چھ دنوں بعد، اس دانائے فرزانہ کا پیکر، جانبازوں کی تنہائی کی راتوں کا ساتھی اور شہداء کے بچوں کا باپ، اس امت کے سوگوار کاندھوں پر اپنی ابدی آماجگاہ کی طرف روانہ ہوگا۔ ان کی تہجد کی عبا، کربلا کی مٹی اور ان کا جانباز ہاتھ جو اس عہد کے ساتھ ان کی وفاداری کی نشانی تھا، ان کے ساتھ جائے گا۔ جنازے کے دن تک، ہم اور یہ آنکھوں میں اٹکے ہوئے آنسو باقی رہ گئے ہیں… الوداع ہمارے آقا… اس قوم کی خون آلود آنکھیں آپ کی پدرانہ نگاہ کی شان و شوکت اور آپ کے قدموں کی صلابت کو کبھی فراموش نہیں کریں گی۔

اب مشہدالرضا (مشہد مقدس) ماتم میں ڈوبا ہوا ہے، اپنی آغوش کھولے ہوئے ہے تاکہ اپنے تھکے ہارے خادم کو گلے لگا سکے۔ وہ جو برسوں ٹوٹے دل کے ساتھ اس حریم کا زائر تھا، اب ہمیشہ کے لیے دوست کے محلے کا مجاور بن گیا ہے۔ اے سب سے مہربان امام، ہمارا تھکا ہوا علمدار راستے پر ہے،اسے جو عمر بھر اس حرم کے پرچم کی بلندی کے لیے مجاہدت کرتا رہا، اپنے رئوف سائے کی پناہ میں قبول فرمائیے، کیونکہ وہ تیرا وفادار خادم تھا اور اب اپنے ابدی گھر یعنی آپ(ع) کے جوار میں لوٹ رہا ہے۔

اہم الفاظ: آستان قدس رضوی، حرم امام رضا(ع)، شہید رہبر معظم(رح)،علمدار،ایران،غیرت،عزت،تشییع، تدفین

مترجم: عمران حیدر

شفقنا اردو

Share This Article

تازه ترین