نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ نے کوئی ڈیڈلائن نہیں دی: رانا ثناء اللہ

شفقنا اردو: وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللّٰہ نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ نے کوئی ڈیڈلائن نہیں دی اور نہ ہی کوئی بات کی گئی ہے، ڈیڈلائن دینے کی باتیں قصے اورکہانیاں ہیں۔

رانا ثنااللہ نے جیو نیوز کے پروگرام شاہزیب خانزادہ کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی نے جوگفتگو کی ہے ہم اس سے متفق نہیں، یہ درست ہے کہ نواز شریف نے محسن نقوی کو جواب دینے سے منع کردیا ہے، محسن نقوی کے انداز گفتگو پربھی سخت اعتراض ہے، ان کی گفتگو بےمعنی ہے، اس کا کوئی سیاق وسباق نہیں۔

رانا ثنا نے کہا وزیراعظم اپنی کابینہ کے اراکین سے ہرطرح کی پوچھ گچھ کر سکتے ہیں، گزشتہ روز محسن نقوی کی وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوئی ہے، میرا خیال ہےکہ وزیراعظم اور محسن نقوی کی ملاقات میں ان کے بیان سے متعلق بات ہوئی ہوگی، کابینہ اجلاس میں چیزیں سامنے آجائیں گی، وزیراعظم محسن نقوی کو بلائیں گے تو وہ کیوں نہیں آئیں گے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا ملک میں پارلیمانی جمہوری سسٹم اورآئین ہے، اس سسٹم نے ہی ملک کو متحد رکھا ہے، اس سسٹم میں کوئی کمی نہیں صرف عمل درآمد کی کمی ہے، اگر سسٹم پر عمل ہی نہ کریں اور کہیں کہ سسٹم گرچکا ہے اس طرح کہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، سسٹم پر عمل کیا جائے تویہ سسٹم ڈیلیور کرسکتا ہے۔ سسٹم نے یہ نہیں کہا کہ اپنا کام چھوڑ کرڈیم بنانا شروع کردیں۔

رانا ثنا بولے نظام کیسے کام نہیں کررہا؟ نظام پرتوعمل کرنا ہے، انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ آئین میں درج اپنی حدود میں رہ کرکام کریں توایک سال میں ہرچیز ٹھیک ہوجائے گی، عمل نہ کریں اوریہ کہیں کہ سسٹم ڈیلیور نہیں کررہا تو اس کا توکوئی حل نہیں، کبھی نہیں کہا کہ ہائبرڈ نظام اچھے طریقے سے کام کررہا ہے، خواجہ آصف کے ہائبرڈ نظام بیان سے مراد یہ ہے کہ عسکری اورسیاسی قیادت ایک دوسرے کی مشاورت سے فیصلے کریں، آئین میں کہاں منع کیا گیا ہےکہ آپس میں مشاورت نہ کریں۔

اس سے قبل رانا ثنا نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کی نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے متعلق بیان کو سمجھ سے بالاتر قرار دیا تھا۔

رانا ثنا نے کہا تھا کہ جب ایک آدمی بات کرتا ہے تو یہ اس کی ذاتی رائےکا اظہار ہوتا ہے، یہ محسن نقوی پر ہےکہ اس بات کی ذمہ داری لیں کہ ان کےبیان سے کیا مراد ہے۔ْ

رانا ثنااللہ نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی نےعجیب بات کی ہے، میں نے محسن نقوی کی تقریر سنی مجھے سمجھ نہیں آئی وہ کہنا کیا چاہتے تھے، لگتا ہے یہ بات بڑی ہے وہ اسے کم کر کے کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن کہہ نہ پائے، جب ان کے منہ سے بات نکل گئی پھر ان کی ایک بات دوسری بات سے نہیں ملتی، مجھے محسن نقوی کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیوں کہہ رہے ہیں۔

وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے مزید کہا کہ چھوٹے صوبے اور انتظامی یونٹ کا طریقہ کار آئین میں ہی درج ہے، پارلیمنٹ میں چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر گفتگو ہونی چاہیے، چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹ سے متعلق فیصلہ پارٹی کی قیادت کرےگی۔

رانا ثنااللہ نےکہا 2013 سے 2018 تک پنجاب حکومت ہماری تھی، ہم نے تب صوبوں کی قرار داد پیش کی، میں نے اس کمیشن اورپنجاب میں 2 صوبوں کے قیام کی قرارداد خود پیش کی تھی، یہ نہیں ہو سکتا آپ بات کریں اور نئے صوبے بن جائیں، نئےصوبوں کےلیے نیشنل کمیشن بنانا ہوگا جس میں فنڈز سمیت دیگر معاملات پر فیصلے ہوں گے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نیشنل کمیشن میں قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت سینیٹ کی سیٹوں پر مشاورت ہونی ہے، نئےصوبوں کے معاملات پیچیدہ مسئلہ ہے جس پربہت سنجیدہ لوگوں کوبیٹھ کرمشاورت کرنا ہوتی ہے۔

رانا ثنااللہ بولے چھوٹےصوبے اور مضبوط بلدیاتی نظام دونوں میں سےکوئی ایک نظام یا دونوں ہوسکتے ہیں، فیصلہ سیاسی جماعتوں نےکرناہے۔

Share This Article

تازه ترین