شفقنا اردو: چین ایک بار پھر شدید موسمی بحران کی زد میں آگیا طاقتور سمندری طوفان باوی نے ملک کے ساحلی علاقوں میں لینڈ فال کرلیا جس کے بعد لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے Wildlife
رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران چین سے ٹکرانے والا یہ دوسرا بڑا سمندری طوفان ہے جس نے ساحلی شہر تائی ژو میں پہلی بار لینڈ فال کیا، بعد ازاں رات گئے وین ژو کے قریب دوبارہ ساحل سے ٹکرایا۔
حکام کے مطابق طوفان کا پھیلاؤ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک ہے، جو فرانس کے رقبے کے برابر بتایا جا رہا ہے۔
اگرچہ باوی کی شدت کم ہو کر کیٹیگری ون رہ گئی ہے تاہم طوفان کے ساتھ موجود شدید نمی کے باعث موسلا دھار بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔
چینی حکام نے مشرقی ژی جیانگ اور شمال مشرقی فوجیان صوبوں میں غیر معمولی بارشوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ Wildlife
ریاستی میڈیا کے مطابق صرف ژی جیانگ صوبے میں 17 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
طوفان کے باعث اسکول، دفاتر اور بیرونی سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں جبکہ 400 سے زائد پروازیں اور درجنوں ٹرین سروسز بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔
اس سے باوی نے جاپان کے دور دراز جزائر کو متاثر کیا جہاں شدید ہواؤں کے باعث ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہوگئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
فلپائن میں اسی طوفان کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق چین کے ساحلی علاقوں میں آئندہ گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔